How was your Eid?! Kesi rahi break? Did you get a chance to meet friends and family and have a lot of fun plus a lot of food? We sure hope you did!

You might have noticed that we didn’t send out anything last week. Hum ne socha keh sub ko aaram kerne dete hain. Khud bhi thora aaram ker lia is bahanay 😀

So here we are today presenting 3 poems from the Amjad Islam Amjad’s nazmon ki kuliyaat (full collection of poems)

Also, please tell us if we should do short stories for you guys. We have been thinking about maybe doing weekly episodes of stories. What are your thoughts about today’s post and about this idea?

Tell us in the comments below because your feedback matters a lot!

Meray Bhi Hain Kuch Khwab by Amjad Islam Amjad

ہاں یہی وقت ہے

غنچے پسِ بہار اگر ِکھل گئے تو کیا

دن میں اگر چراغ کہیں  َجل گئے تو کیا

ملنے کا لطف جب ہے اگر وقت پر ِملیں

 ِکھلنے کا لطف تب ہے اگر وقت پر ِکھلیں

آتا نہیں پلٹ کے جو منظر بکھر گیا

جیسے وہ ایک بات جو باتوں میں کھو گئی

جیسے ُپلوں کے نیچے سے پانی گزر گیا

ملنا اگر ہے دوست تو اِس َپل میں آ کے ِمل

جذبے ابھی مرے نہیں، زندہ ابھی ہے دِل

خوابوں کو باتیں کرنے دو

آنکھوں میں جو خواب ہیں اُن کو باتیں کرنے دو

ہونٹوں سے وہ لفظ کہو جو کاجل کہتا ہے

موسم جو سندیسہ لایا اُس کو پڑھ تو لو

سُن تو لو وہ راز جو پیاسا ساحل کہتا ہے!

آتی جاتی لہروں سے کیا پوچھ رہی ہے ریت!

بادل کی دہلیز پہ تارے کیونکر بیٹھے ہیں!

 َجھرنوں نے اُس گیت کا  ُمکھڑا کیسے یاد کیا!

جس کے ہر اک بول میں ہم تم باتیں کرتے ہیں

راہ گزر کا، موسم کا، ناں بارش کا محتاج

وہ دریا، جو ہر اک دل کے اندر بہتا ہے

کھاجاتا ہے ہر اک شعلہ وقت کا آتش دان

بس اِک نقش ’’محبت‘‘ ہے جو باقی رہتا ہے

آنکھوں میں جو خواب ہیں اُن کو باتیں کرنے دو

ہونٹوں سے وہ لفظ کہو جو کاجل کہتا ہے!

دلِ بے خبر، ذرا حوصلہ

کوئی ایسا گھر بھی ہے شہر میں جہاں ہر مکین ہو مطمئن!

کوئی ایسا دن بھی کہیں پہ ہے جسے خوفِ آمدِ شب نہیں!

یہ جو گرد بادِ زمان ہے، یہ اَزل سے ہے، کوئی اب نہیں

دلِ بے خبر، ذرا حوصلہ!

یہ جو خار ہیں ترے پاؤں میں، یہ جو زخم ہیں ترے ہاتھ میں!

یہ جو خواب  ِپھرتے ہیں دَر بدر یہ جو بات اُلجھی ہے بات میں

یہ جو لوگ بیٹھے ہیں جا بجا، کسی اَن    َبنے سے دیار میں

سبھی ایک جیسے ہیں سرگراں، غمِ زندگی کے  ِفشار میں

یہ سَراب یونہی سدا سے ہیںاِسی ریگزارِ حیات میں

یہ جو رات ہے ترے چار سُو، نہیں صرف تیری ہی گھات میں!

دلِ بے خبر، ذرا حوصلہ!

ترے سامنے وہ کتاب ہے جو  ِبکھر گئی ہو وَرق وَرق

ہمیں اپنے   ّحصے کے وقت میں، اِسے جوڑنا ہے  َسبق  َسبق

ہیں عبارتیں ذرا مختلف مگر ایک اصلِ سوال ہے

جو سمجھ سکو تو یہ زندگی کسی ہفت خواں کی مثال ہے

دلِ بے خبر، ذرا حوصلہ، نہیں مستقل کوئی مرحلہ

کیا عجب کہ کَل کو یقیں بنے یہ جو مُضطرب سا خیال ہے!!

کسی روشنی میں ہو مُنقلِب، کسی سَر ُخوشی کا نقیب ہو

یہ جو  َشب نما سی ہے بے دلی، یہ جو زَرد رُو سا ملال ہے

دلِ بے خبر، ذرا حوصلہ!

دلِ بے خبر، ذرا حوصلہ!!

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.