Tag Archives: Literature

Ashfaq Ahmad – Short Story – Gaatu – Your Weekly Dose of Reading at Parhai Likhai

Safar-e-Maina - Ashfaq Ahmad

Today we’re sharing something a bit different. A short story by the legendary Ashfaq Ahmad that left a mark on us when we read it for the first time and even today it remains one of our favorites. We hope you enjoy it as much as we did. Please don’t forget to leave a comment so that we know what you thought of this.

 

This short story has been taken from the collection of short stories by Ashfaq Ahmad – Safar-e-Maina

 

Safar-e-Maina - Ashfaq Ahmad

 

 

گاتو – اشفاق احمد

                وہ زیر تعمیر بنگلے کی ان ٹوٹی پھوٹی اینٹوں کے ڈھیر پر بیٹھا تھا جنہیں لمبی دستیوں والی چھوٹی چھوٹی ہتھوڑیوں سے توڑ کر روڑی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ پھر ان کنکریوں میں سیمنٹ اور راکھ ملا کر بنیادوں میں ڈالتے ہیں اور اوپر عمارت اٹھاتے ہیں۔

                زیر تعمیر بنگلے کے نامکمل ستونوں سے لوہے کی سلاخیں اوپر کو نکلی ہوئی تھیں اور مسلسل بارش سے ان کا رنگ سیندوری ہو گیا تھا۔ ارد گرد کی کوٹھیوں میں رہنے والے لونڈوں نے رسیوں کے پھندے پھینک پھینک کر دو تین سلاخوں کو اس طرح دُہرا کر دیا تھا کہ ان کے سرے پیل پایوں کے قدموں تک پہنچ گئے تھے۔ قد آدم اٹھی دیواروں سے خانساماں لوگ اینٹیں اکھاڑ کر باورچی خانوں میں نئے چولہے بنانے کے لیے لے آئے تھے اور آہستہ آہستہ یہ بنگلہ کھنڈر بنتا جا رہا تھا۔

                اسی جنگلے کے پہلو پر عارفہ اور صدیقہ کے کمرے کی کھڑکیاں کھلتی تھیں جن پر پیاز کے پرت ایسے نائیلون کے پردے پڑے تھے۔ یہ دونوں بہنیں کاسنی دوپٹے اوڑھ کر سکول جایا کرتی تھیں اور شام کو ایک دوسری کے کندھے کا سہارا لے کر لباس تبدیل کیا کرتی تھیں۔ پرے یزدانی صاحب کی کوٹھی پر، اوپر برساتی میں، ان کا سب سے چھوٹا لڑکا انور رہتا تھا جو دوسری مرتبہ میٹرک کا امتحان دے رہا تھا اور غسلخانے سے اپنے ابّا جان کے بلیڈ چرایا کرتا تھا۔ اس بنگلے کی پشت پر بڑی سی کریم کلر کی کوٹھی میں ایک امریکی جوڑا رہتا تھا جو بالائی منزل کے سپاٹ چھجے پر چھوٹا سا تولیہ بچھا کر دھوپ سینکا کرتا تھا۔

                بیگم نیاز نے اپنے بیڈ روم کے سنگار میز سے سرخ ربن اٹھا کر رنگ ماسٹر کی طرح جھٹکا اور اپنے پھولے ہوئے بالوں میں باندھ لیا۔ پھر سفید ڈوری کے سرے پر لگی ہوئی پنگ پانگ کی گیند کھینچی اور لوہے کے فریم میں جڑے ہوئے اڑتالیس شیشوں والے دریچے سے ویل ویٹ کے پردے ادھر اُدھر ہٹ گئے۔

                دریچے کے عین سامنے وہ زیر تعمیر بنگلے کی ٹوٹی پھوٹی اینٹوں کے ڈھیر پر بیٹھا تھا۔ بیگم نیاز نے نفرت سے بھویں سکیڑ کر دوسری گیند کھینچی اور پردہ پھر اپنی جگہ پر آ گیا۔ غصہ سے دانت پیس کر وہ سنگار میز کے سٹول پر بیٹھ گئیں اور رونکھی ہو کر بولیں: “توبہ رذیلوں کی اولاد کس قدر ضدی اور اڑیل ہوتی ہے۔ جو کچھ ماں باپ سکھا دیں کیا مجال جو رتی بھر بھی ادھر سے اُدھر سرک جائیں۔ صبح صبح پھر آ کے بیٹھ گیا۔ حرامزادہ۔”

                مسٹر نیاز اپنی بیگم کو خوش کرنے کے لیے مسکرائے او رلیٹے لیٹے تکیے کے نیچے ہاتھ پھیر کر سگریٹ تلاش کرنے لگے۔ بیگم نے منہ سُجا کر کہا: “آپ سے اتنا بھی تو نہیں ہو سکتا کہ اس کے باپ کو بلا کر دھمکائیں اور اُسے اپنا رویہ ٹھیک کرنے کو کہیں۔ آپ نے تو ماتحتوں کو سر چڑھا لیا ہے۔” مسٹر نیاز نے دیا سلائی کو پھونک مار کر بجھا دیا اور اپنے سگریٹ کا تازہ تازہ سلگا ہوا گل دیکھ کر بولے: “وہی ہو گا حضور، جو آپ فرما رہے ہیں۔ جناب نے دھمکانے کو کہا ہے میں اسے ٹرانسفر ہی کر دوں گا۔” بیگم نے ربن کو چٹکی میں پکڑ کر کھینچا اور زمین پر پھینک دیا۔ ان کے پھولے ہوئے بال کانوں پر آ گرے۔ مسٹر نیاز نے اپنے موٹے ہونٹ کی پتلی سی پپڑی کو نوچتے ہوئے کہا: “سرکار کے تیور کچھ کڑے پڑتے ہیں کہیں ہمی نہ مارے جائیں۔” بیگم صاحبہ اس بات پر بھنا کر بولیں: “کل شام اس فتنہ نے جو مجھ سے کی ہے خدا کرے تمہارے ساتھ ہوتی پھر آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوتا۔ وہ تو میرا جی تھا جو چپکی ہو رہی ورنہ اس حرامی پر پلوٹو چھوڑ دیتی۔ قیمہ ہی باندھ کے لے جاتے گھر والے۔”

                مسٹر نیاز نے کہنیوں کے بل ہو کر سر پیچھے ڈال دیا اور سگریٹ چچوڑتے ہوئے بولے “گھبرائیے نہیں، میں اس کے باپ کی آج ہی جواب طلبی کروں گا اور اس کی تبدیلی کے آرڈر نکال کر آج شام ہی بستر گول کروا دوں گا۔ ذلیل کہیں کا۔”

                “اور اگر آپ نے تبدیلی نہ کی تو؟” بیگم نے بیگمانہ انداز میں پوچھا۔

                “تو آپ ہمیں اپنے گھر نہ گھسنے دیجیے گا۔”

                بیگم نے زمین پر گرا ہوا ربن پھر اٹھا لیا۔

                قیوم کے ابّا دفتر میں نوکر تھے۔ وہ صبح پتلون کو کلپ لگا کر بائیسکل پر دفتر جاتے اور شام کو تھیلا لے کر پیدل سبزی لینے جاتے۔ کبھی کبھی قیوم بھی ان کے ساتھ جاتا۔ خوانچے والوں کو دیکھ کر رُک جاتا۔ کبھی کہتا مجھے یہ لے دو۔ کبھی کہتا وہ لے دو۔ اس کے ابّا بہت ناراض ہوتے۔ کبھی جھڑکتے، کبھی ہاتھ پکڑ کر کھینچتے۔ گھر پہنچ کر اس کی ماں سے کہتے، دوبارہ میں قیومی کو ساتھ نہ لے جاؤں گا۔ یہ بہت تنگ کرتا ہے۔ راستے میں رک رک جاتا ہے۔

                قیومی کی امی کہتی “اچھے بچے یوں نہیں کیا کرتے۔ بڑوں کا کہا مانتے ہیں۔ جس طرح وہ کہتے ہیں اسی طرح کرتے ہیں۔ دیکھو تو اسد کس طرح اپنے ماں باپ کا کہا مانتا ہے۔ سبھی اس سے پیار کرتے ہیں۔ ہر ایک اسے اچھا سمجھتا ہے۔”

                قیومی نے کہا “اس کے ابّا نے تو اُسے طوطا لا کر دیا ہے۔ میرے پاس کوئی طوطا ہے؟” اس نے کہا “تو طوطا لے کر کیا کرے گا۔ غصہ میں آئے گا تو انگلی کتر ڈالے گا۔ ذرا پنجرہ کھلا رہ جائے گا تو پھُر سے اُڑ جائے گا۔” قیومی نے کہا “پھر مجھے ایک چھوٹا سا کتا لے دو جیسا جمی کے پاس ہے۔” اس کی امی بولیں “ہم کتا کہاں رکھیں گے۔ جمی تو کوٹھی میں رہتا ہے۔ ان کے کئی نوکر ہیں۔ وہ ہر چیز کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ ہم کتا کیسے پال سکیں گے؟” قیوم نے جواب دیا۔ “میں کتے کو زنجیر سے باندھ دوں گا۔ آدھا دودھ اس کو پلاؤں گا، آدھا خود پیوں گا۔ سکول سے آ کر سیر کرانے لے جاؤں گا۔ جب بڑا ہو جائے گا تو چوروں کو مارا کرے گا۔” قیوم کی امی نے کہا “بیٹا کتا چوبارے پر نہیں رہ سکتا۔ برتنوں میں منہ ڈالتا ہے۔ غصہ میں آ جائے تو بوٹی نکال لیتا ہے۔ اڑوس پڑوس کی مرغی پکڑ لے تو پیسے بھرنے پڑ جاتے ہیں۔ تُو کتا لے کر کیا کرے گا؟” قیوم نے کہا “پھر مجھے بلی لے دو۔ میں اس کے گلے میں۔۔۔۔”

                اس کے باپ نے جھڑک کر کہا “بکواس بند کرے گا کہ نہیں بلی کا بچہ؟” قیوم سہم کر دیوار سے لگ گیا۔

                قیوم کے ماموں انڈونیشیا میں رہتے تھے۔ پہلے وہ کراچی رہا کرتے تھے۔ پھر ان کی بدلی انڈونیشیا ہو گئی۔ جھٹ پٹ شادی کرا کے ماموں انڈونیشیا پہنچ گئے۔ قیوم کے ابّا شام کو نیچے اتر کر جلد ساز کے پاس جا بیٹھتے۔ حقہ پیتے۔ انڈونیشیا کی باتیں کرتے: “کالی مرچ وہاں دو آنے سیر بکتی ہے، زیرہ ایک آنہ سیر، گوشت چونی کا آدھا سیر، پھل ایک روپے کا ٹوکرا بھر۔” قیوم کی امّی پڑوسن سے کہتیں: “انڈونیشیا سے بھائی کا خط آیا ہے۔ بنگلے میں رہتا ہے۔ پانچ نوکر ہیں۔ اگلے مہینے کار خریدے گا۔ آتا ہوا ساتھ لائے گا۔ دو ریڈیو خریدے ہیں۔ ایک میرے لیے، دوسرا اپنے لیے۔ بجلی کی مشین بھی لی ہے۔ آپ سے آپ کپڑے سیتی ہے۔ وہاں ہر چیز سستی ہے۔ پچاس ساٹھ میں اچھا گزارا ہو جاتا ہے۔”

                قیوم نے دونوں کی باتیں سنیں بہت خوش ہوا۔ تالی بجا کر بولا: “امّی مجھے وہاں سے ایک بلی منگوا دو۔ سستی مل جائے گی۔ میں اس کے گلے میں پیلا ربن باندھوں گا۔ دو ٹانگوں پر چلنا سکھاؤں گا۔”

                امی نے کہا: “صدقے جاؤں بلی کیسے آئے گی۔ ماموں کے آنے میں تو دیر ہے۔”

                قیوم نے کہا “ماموں کو لکھیے۔ وہ ڈبے میں بند کر کے بھیج دیں گے۔ ڈاکیا دے جائے گا۔”

                قیوم کی امی ہنس پڑیں۔ پیار بھرے لہجے میں بولیں “ڈبے میں بیچاری بھوکی پیاسی مر جائے گی۔ سانس رک جائے گی۔ دم گھٹ جائے گا۔”

                قیوم نے کہا “ماموں کو لکھیے چھیدوں والے ڈبے میں بھیجیں۔ ساتھ ہی دودھ کی بوتل رکھ دیں۔” ماں نے بیٹے کو کلیجے سے لگا لیا اور جھلا جھلا کر تھپکنے لگی۔

                ایک دن قیوم کے ابّا دفتر سے آئے تو ان کی بیوی نے کپڑے دھونا چھوڑ کر کہا “جی پتہ ہے آج قیومی نے کیا کیا؟”

                خواجہ صاحب وہیں رک گئے اور گھبرا کر بولے “کیا؟”

                بیوی نے کہا “میں صدیق بھیا کو خط لکھتی تھی کہ میرے پاس ایک پرچی لکھ کر لے آیا۔ کہنے لگا ماموں کو میرا خط بھی بھیج دو۔ میں نے دیکھا۔ ہائے صدقے جاؤں۔ ایسا پیارا خط لکھا تھا کہ شاید آپ سے بھی نہ لکھا جائے۔”

                “کیوں؟” خواجہ صاحب نے کلپ اتارتے ہوئے پوچھا۔

                “لکھا تھا میرے پیارے ماموں جان جی۔ میں آپ کو بہت یاد کرتا ہوں، جلدی آ جائیں۔ میرے لیے ایک بلی لانا۔ جھوٹی موٹی کی بلی نہیں، سچیں مچی کی بلی۔ بڑے بالوں والی۔”

                یہ کہہ کر خواجہ صاحب کی بیوی ہنسنے لگیں اور خواجہ صاحب ماتھے پر تیوری ڈال کر چارپائی پر بیٹھ گئے۔ ان کی بیوی نے کپڑوں کا بٹھل پرے دھکیل دیا اور خود پیڑھی گھسیٹ کر ان کے پاس پہنچ گئیں۔ خواجہ صاحب نے پوچھا “کوئی خط آیا تھا؟”

                “کوئی نہیں۔” ان کی بیوی نے آٹھویں کی لڑکی ایسا سر ہلا کر جواب دیا اور پھر خواجہ صاحب کے زانو پر دونوں ہاتھ رکھ کر کہنے لگیں: “توبہ اللہ آپ تو بس منہ سُجا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ قیومی کی بات سنائی پھر بھی ہنسی نہیں آئی۔”

                خواجہ صاحب نے کہا “لعنت بھیجو۔ حالات ہی ایسے ہیں۔ ہنسی کیسے آئے۔”

                ان کی بیوی نے کہا “حالات کو بیشک گولی مارو پر میرے قیومی کو کچھ نہ کہو۔ منہ بھر کے بات کر دیتے ہو۔”

                خواجہ صاحب نے کہا “چپ رہو مریم میں تھکا ہوا ہوں۔”

                مریم چپ ہو گئی اور خواجہ صاحب ویسے ہی پتلون پہنے چارپائی پر دراز ہو گئے۔

                انڈونیشیا کی پاکستانی ایمبیسی میں اپنی سروس ڈیورشن ختم کرنے کے بعد جب قیوم کے ماموں واپس پاکستان آئے تو فارن آفس میں چارج لینے کے بعد سیدھے لاہور پہنچے۔ وہ اپنی سسٹر کے لیے بہت سی چیزیں لائے تھے۔ ان میں ریڈیو سیٹ یا سوئنگ مشین وغیرہ تو نہ تھیں، البتہ سمر میں پہننے کے پرنٹیڈ کپڑے ضرور تھے۔ کچھ وُڈن سٹیچو تھے جو وہاں کے فوک ڈانسرز کی مختلف پوزوں پر مشتمل تھے۔ اپنے بردر اِن لا کے لیے وہ سوٹ کا کپڑا لائے تھے او رایک آئی وری ہینڈل کی خوبصورت سی چھڑی۔ لیکن جب انہوں نے قیوم کا گفٹ دینے کے لیے بوٹ کا ڈبہ کھولا تو اس میں سے ایک چھوٹا سا بلی کا بچہ نکلا۔ جس نے ڈھکنا کھلتے ہی ننھی سی چھینک ماری اور اپنی کمر محراب بنا کر انگڑائی لی۔ قیوم خوشی سے دیوانہ ہو گیا اور ماموں کی کمر میں باہیں ڈال کر مارک ٹائم کرتے ہوئے ناچنے لگا۔ اس کے ابّا نے جھڑک کر کہا۔ “گدھا کہیں کا۔ کیا بے صبرا ہوا ہے۔”

                امی بولیں “بیٹا شور تو نہ کرو۔ ماموں جی غصے ہوں گے۔”

                ماموں نے کہا “یہ بڑی ونڈرفل بلی ہے۔ اسے “سیامیز کیٹ” کہتے ہیں۔ جکارتا میں ایک کرنل کے پاس تھی۔ میں نے قیوم کا لیٹر پہنچتے ہی ایک بلونگڑا خرید لیا۔ جسٹ سی! اس کے کان اور ناک دونوں سیاہ ہیں۔ یہی سیامیز کیٹ کی پہچان ہے۔”

                قیومی نے ماموں کی کمر کے پیچھے سے سر نکالا اور بلی کو پیار دینے کے لیے ذرا سا آگے بڑھا۔ بلی نے ایک اور انگڑائی لی اور قیومی سہم کر پیچھے ہٹ گیا۔ سب ہنسنے لگے۔ ماموں نے کہا “کم آن۔ کم آن۔ یہ تو تمہاری فرینڈ ہے۔ ہم نے اسے تمہارا نام بتا دیا ہے۔ بالکل کچھ نہیں کہے گی۔ “پھر انہوں نے بلونگڑے کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور اس کے جسم سے خٹر خٹر کی آواز نکلنے لگی۔

                قیوم کی امّی نے کہا “صدیق ہماری بلیوں کے اندر بھی ایسی آواز ہوتی ہے؟”

                “نہیں” خواجہ صاحب نے کہا۔ “ادھر کی بلیاں تو کاٹھ کی بنی ہوتی ہیں۔ ہاتھ پھیرو تو برادہ جھڑتا ہے۔ واہ عقل کی کودن!”

                قیوم کے ماموں نے کہا “سیامی کیٹ بس ایک ہی بچہ دیتی ہے اس کے بعد ساری لائف ویسے ہی پاس کر دیتی ہے۔”

                “بڑی برہمچاری بلی ہے۔” خواجہ صاحب شرارت سے مسکرائے۔

                مریم نے کہا “ہائے اللہ اک بچہ صرف! مر جائے تو ماں کا جی ویران ہو جائے۔ ہے نا؟”

                خواجہ صاحب نے کہا “بلی ماں اور عورت ماں میں بڑا فرق ہے۔ بلی کے بچے کو نہ سونے کے سہرے لگتے ہیں نہ اسے ڈپٹی بننا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ بچے کو رو دھو کر بھول جاتی ہے۔ عورت ماں کا بچہ مرتا ہے تو اس کے ساتھ ایک دولہا مرتا ہے۔ ایک ڈپٹی مرتا ہے۔ کمائی کا ذریعہ ڈوبتا ہے۔ جب اتنی ساری چیزیں ایک ساتھ فنا ہو جائیں تو کس کا جی ویران نہ ہو گا بھلا۔”

                صدیق نے کہا “بھائی جان تو فلسفی ہو گئے۔”

                خواجہ صاحب بولے “اسلام آباد میں رہے گا۔ دو چار بچے ہو جائیں گے۔ پتلون گھس جائے گی تو تیری فلاسفی بھی خود بخود نظر آنے لگے گی۔”

                قیوم کی امی چمک کر بولیں “توبہ میری۔ کسی کی بات کو یوں تو نہیں مروڑا تروڑا کرتے۔”

                اس گفتگو میں سارے یہ بھول گئے کہ قیوم ابھی تک ماموں کی کمر سے لپٹا ہوا ہے اور چور آنکھوں سے بلونگڑے کی طرف دیکھ رہا ہے۔ خواجہ صاحب نے کہا “شاباش شیر پترا۔ تھوڑا اور ماموں کی بکل میں چھپ جا۔”

                ماموں نے قیوم کا آرم پکڑ کر سویٹلی اپنی طرف کھینچا اور کہا “کم آن۔ یہ تو فرینڈلی ہے۔ تم سے تو ماں باپ سے بڑھ کر پیار کرے گی۔ تمہارے لیے لایا ہوں تم نے لیٹر لکھا تھا کہ نہیں؟”

                قیوم نے اثبات میں سر ہلایا اور تھوڑا سا باہر نکل آیا۔

                “ٹچ اٹ! ٹچ اٹ!!” ماموں نے قیوم کا ہاتھ پکڑ کر بلی کی فر پر پھیرا اور کہا “دیکھا۔ کچھ بھی نہیں کہتی ناں۔” قیوم نے نفی میں سر ہلایا اور ماموں کے گھٹنے سے لگ کر کھڑا ہو گیا۔

                “اس کا نام ڈیزی ہے ماموں؟” قیوم نے ہولے سے پوچھا۔

                اور خواجہ صاحب ہنس پڑے۔ “ہاں ڈیزی جیکسن! بڑی حرامزادی تھی۔ ایس پی جالندھر کی میم تھی۔ خانساموں، خاکروبوں کی مومیائی نکال لیتی تھی۔”

                “بس بس” مریم نے کہا۔ “اب اس کی گندی باتیں نہ سنانے لگ جانا۔ ہم تو قیوم کی بلی کا کوئی اور ہی نام رکھیں گے۔ ہیں ناں بھئی قیومی؟”

                قیوم نے اثبات میں سر ہلایا اور اس کے ماموں نے مسکراتے ہوئے کہا “اس کا نام تو گاتو ہے۔۔۔۔”

                “گاتو ماموں؟” قیوم ایک دم بولا۔

                “ہاں” ماموں نے سوچتے ہوئے کہا۔ “گاتو اٹالئین لینگوئیج میں بلی کو کہتے ہیں۔”

                “بڑا واہیات نام ہے۔” خواجہ صاحب بولے۔

                “واہیات نہ واہیات چنگا بھلا ہے۔” مریم نے یقین سے کہا۔

                “ہاں امی بڑا اچھا ہے گاتو۔ ہے نا ماموں؟”

                “شاباش” ماموں نے قیوم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور گاتو کو دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر قیوم کی طرف بڑھایا______ قیوم ڈرا، جھجکا، ایک قدم پیچھے ہٹا، پھر اس نے اپنا چہرہ ذرا سا ایک طرف موڑ کر گاتو کو ہاتھوں میں اٹھا لیا۔ گاتو نے اپنی دم پچھلی ٹانگوں میں دبا لی اور پنجے بغلوں میں چھپا لیے۔ قیوم نے اسے اور قریب کیا تو گاتو نے ہولے سے میاؤں کی آواز نکالی۔ قیوم نے ڈرتے ڈرتے اس کی گلابی ناک پر ہولے سے پھونک ماری۔ گاتو نے آنکھیں بند کر لیں۔ قیوم کا حوصلہ بندھا اور اس نے بند آنکھوں والی گاتو اپنی گال سے لگا لی۔ گاتو خٹر خٹر بولنے لگی۔

                اب محلے کے بچے قیوم سے کھیلنے لگے۔ کوئی کہتا ذرا سی دیر کو گاتو میری گود میں دو۔ کوئی کہتا ایک منٹ مجھے دو۔ قیوم ہر ایک کو اپنی بلی دے دیتا۔ اس کے دوست گاتو کو گود میں اٹھا کر پیار کرتے۔ اپنے گھروں سے دودھ چرا لاتے۔ گاتو کو پلاتے۔ خوش ہوتے۔ قیومی کہتا، میرے ماموں ولایت سے لائے ہیں۔ صاحب سے خریدی ہے سو روپے میں آئی ہے۔ امی نے مجھے ربن دیا ہے صدیق چچا اس کے لیے گھنگھرو لائے ہیں۔ ابھی چھوٹی ہے۔ بڑی ہو جائے گی تو چوہے مارے گی۔ شیر سے لڑے گی۔ میرے ساتھ سکول جایا کرے گی۔ اس کے دوست پوچھتے: جب گاتو بڑی ہو جائے تو پھر بھی تُو ہمیں اس سے کھیلنے دیا کرے گا؟ قیومی کہتا۔ اگر تم میرا بستہ اٹھا کر لے جایا کرو گے تو کھیلنے دوں گا۔ نہیں تو نہیں۔ سب بچے ایک ساتھ بولتے۔ میں اٹھا کر لے جاؤں گا۔ میں اٹھا کر لے جاؤں گا۔ قیومی خوش ہو کر گاتو کو گلے سے لگاتا۔ اس کا منہ چومتا۔ بلی خٹر خٹر کرنے لگتی۔

                قیوم کی امی کہتی، ” تُو تو اس بلی پیچھے پاگل ہو جائے گا۔ تختی لکھتا ہے تو گود میں بٹھا کر۔ روٹی کھاتا ہے تو ساتھ بٹھا کر۔ سوتا ہے تو گلے سے لگا کر۔ آخر اس میں ہے کیا۔ تجھے اتنی اچھی کیوں لگتی ہے۔” قیوم کہتا “میری گاتو ہے نا۔ آپ کو کیا۔ جب میں سکول سے آتا ہوں دروازے میں بیٹھی ہوتی ہے۔ سیڑھیوں میں میری آواز سنتی ہے۔ میاؤں میاؤں کرنے لگتی ہے۔ جو میں کہتا ہوں وہی کرتی ہے۔ میں اسے کہانیاں سناتا ہوں۔ یہ مجھے گانا سناتی ہے۔” گانے کی بات سن کر قیوم کی امی ہنس پڑیں۔ کہنے لگیں “گانا نہ گانا۔ تمہاری بلی تو گونگی ہے۔” قیوم کو اس بات پر بہت غصہ آیا۔ پہلے پھس پھس کی۔ پھر بھیں بھیں رونے لگا۔ گاتو سہم کر کونے میں جا دبکی۔ قیوم کی امی نے کہا۔ “میں تو یونہی کہہ رہی تھی۔ یہ تو سچ میں بہت اچھا گاتی ہے۔ میں نے بھی سنا ہے اس کا گانا۔” قیوم ایک دم چپ ہو گیا۔ آستین سے آنسو پونچھے اور بولا “ہے نا امی رات کو گاتی ہے نا؟” امی نے کہا “ہاں ہاں کیوں نہیں۔ میں نے خود سنا ہے۔” قیوم نے لپک کر گاتو اٹھا لی۔ جھولی میں ڈالی اور پیار کرنے لگا۔

                ایک شام جب خواجہ صاحب دفتر سے لوٹے تو انہوں نے مریم سے کہا۔ “آج بیگم صاحبہ دفتر آئیں تھیں۔”

                “تمہارے دفتر؟” مریم نے بے تعلقی سے کہا۔ “اپنے خاوند سے ملنے آئی ہو گی۔”

                “تو اور کیا مجھ سے ملنے آئی تھی۔” خواجہ صاحب چارپائی پر دراز ہو گئے اور مریم ان کے پاس پائنتی پر بیٹھ گئی۔ اپنے شوہر کے پیٹ پر ہاتھ پھیر کر بولی۔ “آج روٹی کھائی تھی؟”

                “ہاں” شوہر  نے آنکھیں بند کر کے کہا۔ “پلاؤ اور مرغ کا شوربہ، انگور اور کیلے کا کسٹرڈ۔”

                مریم نے اپنے خاوند کو زور سے جھنجھوڑا اور کہا “ہائے اللہ میرے ساتھ تو مذاق نہ کرو۔”

                “خدا کی قسم۔” خواجہ صاحب نے آنکھیں کھول دیں اور پتلون کے پائینچے تلے ٹخنہ کھجا کر بولے۔ “بیگم صاحبہ اپنے ساتھ بنگلے پر لے گئی تھیں۔”

                “اللہ خیر۔” مریم نے مسکرانے کی کوشش کی۔ “اتنی مہربانیاں کیوں بھلا؟”

                خواجہ صاحب تھوڑی دیر تک چپ رہے پھر بولے۔ “سنو مریم! بیگم صاحبہ نے گاتو مانگی ہے۔”

                “گاتو!” مریم کے منہ سے چیخ نکل گئی۔ “قیومی کی بلی۔”

                “ہم اسے کوئی اور لے دیں گے۔ یہ امیروں کے رکھنے کی بلی ہے۔ وہی اس کی ذات کذات سمجھتے ہیں۔”

                “امیر جائیں دوزخ میں۔ میرے لال کی بلی۔ میں تو کسی کو ہاتھ بھی نہ لگانے دوں۔”

                خواجہ صاحب نے مریم کی بات پر جان بوجھ کر توجہ نہ دی اور بولے۔ “پرسوں صاحب نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا اور کہا۔ “خواجہ صاحب سنا ہے آپ کے پاس ایک بلی ہے؟” میں نے جواب دیا “جی ہاں ہے۔” پوچھنے لگے “کیسی ہے؟” میں نے کہا “جی پتہ نہیں۔ چھوٹی سی ہے۔ میرے لڑکے کا ماموں انڈونیشیا سے لایا تھا۔” صاحب نے میز کی دراز سے ایک کتاب نکالی۔ اس میں بلیوں کی ہزاروں تصویریں تھیں۔ مجھے دکھا کر کہنے لگے۔” پہچانو تو تمہارے والی بلی کس سے ملتی ہے۔” میں نے آٹھ دس ورق ہی الٹے ہوں گے کہ گاتو جیسی بلیوں سے پورا ایک صفحہ بھرا ہوا نکل آیا۔ میںنے صاحب سے کہا۔ ایسی ہے جناب عالی، صاحب بہت خوش ہوئے۔ کہنے لگے “ہماری بیگم کو بلیوں کا بہت شوق ہے۔ یہ کتاب انہی کی ہے۔ انہوں نے ہی درخواست کی تھی کہ اگر آپ ازراہ کرم اپنی بلی ہمیں تحفہ دے دیں گے تو آپ کی نوازش ہو گی۔” یہ سن کر میں شرمندہ سا ہو گیا اور نظریں جھکا لیں۔ صاحب نے پھر پوچھا تو میں نے کہا۔ “صاحب وہ میرے بچے کی بلی ہے اور اسی کے لیے۔۔۔۔۔” مگر صاحب نے میری بات پوری نہ سنی اور کہا، “بچے کا کیا ہے اُسے کوئی کھلونا ولونا دے کر بہلا لینا۔ کوئی ایسی مشکل بات نہیں____ بچے وچے بہل ہی جایا کرتے ہیں۔” یہ کہہ کر صاحب نے مجھے واپس اپنے کمرے میں بھیج دیا اور آج بیگم صاحبہ آ گئیں کہ چلو ابھی بلی لا کر دو۔ میں نے کل کی مہلت مانگی ہے۔”

                مریم نے یہ ساری بات خاموشی سے سن کر کہا۔ “بیگم صاحبہ ہو گی تو اپنے گھر ہو گی۔ ہم کوئی اس کا دیا ہوا کھاتے ہیں جو بلی دے دیں۔ میرے قیومی کی تو اس میں جان ہے۔”

                خواجہ صاحب نے کہا۔ “اور ہماری جان صاحب کے اختیار میں ہے۔”

                “کیوں؟” مریم نے تنک کر پوچھ تو لیا لیکن فوراً اسے محسوس ہوا کہ اس میں بھلا ایسی کون سی مشکل بات تھی جو سمجھ نہ آتی__ مریم رونے لگی تو اس کے خاوند نے اسے سینے سے لگا لیا اور کہا “میں کل قیوم کے سکول جانے کے بعد دفتر جاؤں گا اور گاتو کو ساتھ لے جاؤں گا۔ اور بیگم صاحبہ کے بنگلے پر چھوڑ آؤں گا۔ جب قیوم سکول سے آئے گا تو ہم کہہ دیں گے کہ محلے کی آوارہ بلیوں کے ساتھ بھاگ گئی۔

                مریم اپنے خاوند کے کندھے سے لگی روتی رہی اور اس کا سارا وجود سسکیوں سے ہچکولے کھاتا رہا۔

                قیوم چوبارے کی چھت پر کھڑا تھا۔ رو رو کر اس کی آنکھیں سوج گئی تھیں۔ گاتو نہ کسی کوٹھے پر نظر آتی تھی نہ کسی صحن میں۔ اس نے چاروں طرف منہ اٹھا کر آوازیں دیں۔ گاتو۔ گاتو!____ گاتو گاتو!!  پر کوئی بھی نہ بولا۔

                قیوم روتا ہوا نیچے اتر آیا۔ اس کی امی نے کہا۔ “صدقے جاؤں کیوں ہلکان ہوتا ہے۔ آج گئی ہے۔ کل واپس آ جائے گی۔ بلی اپنا گھر نہیں چھوڑتی۔ سال بعد بھی واپس آ جاتی ہے۔ نہ آئی تو میں اپنے چاند کو اور لے دوں گی۔” اور کا نام سنا تو قیوم اور زور زور سے رونے لگا۔ چیخیں مارتا نیچے اتر گیا۔ جلد ساز کی دوکان پر پہنچا۔ کہنے لگا “میری گاتو یہاں تو نہیں آئی؟” دفتری نے کہا۔ “اس کی جلد بندھوانی تھی جو یہاں آتی۔” قیوم نے پنساری سے پوچھا۔ شربت والے سے پوچھا۔ قصائی کے تختے نیچے نالی میں ہاتھ پھیر کر دیکھا۔ سگرٹ والا بولا۔ “کلرک کا لونڈا کیا گاتو گاتو کر رہا ہے۔  یہاں مٹیاریں غائب ہو جاتی ہیں۔ یہ بلونگڑے کو رو رہا ہے۔ بڑا ہو گا تو آپ ہی سمجھ جائے گا۔” قیوم کے دوست کہنے لگے چٹی مسجد کے مولوی جی سے لوٹا پھرواتے ہیں۔ وہ چور کی پرچی نکال دیں گے۔ دوستوں کو ساتھ لے کر قیوم روتا روتا مولوی کے پاس پہنچا۔ مولوی کانا تھا۔ اس نے ساری بات سنی۔ ڈاڑھی ہلا کر بولا۔ “پانچ پیسے لاؤ۔ میں لوٹا گھما دوں گا۔” سب نے ایک ایک پیسہ ڈال کر پانچ پیسے جمع کیے۔ مولوی نے لوٹا گھمایا۔ بھنگن کے نام کی پرچی نکلی۔ قیوم غصے سے دیوانہ زور زور سے دھاڑیں مارتا بھنگیوں کے کوارٹر پہنچا۔ جاتے ہی اپنی بھنگن سے اُلجھ گیا۔ اس کی اوڑھنی پھاڑ ڈالی۔ ٹانگوں سے چمٹ گیا۔ چیخ چیخ کر کہنے لگا۔ میری گاتو دو۔ میری بلی دو۔ بھنگن نے پرے دھکیلا۔ قیومی نے اس کی کلائی میں کاٹ کھایا۔ بھنگن نے جلدی سے ہاتھ چھڑایا تو گلٹ کا کنگن قیومی کے ماتھے میں لگا۔ خون کی ایک پتلی سی لکیر دوڑنے لگی۔ بھنگی نے روتے ہوئے قیومی کو اٹھایا۔ ان کے گھر لے آیا۔ امی نے دوپٹہ پھاڑ کر پٹی باندھی۔ خواجہ صاحب نے قیوم کو اس حالت میں دیکھا۔ چپ چاپ نیچے اتر گئے۔

                جاڑے کا موسم تھا خشک سردی پڑ رہی تھی۔ زمین سے آسمان تک یخ بھری ہوئی تھی اور انسان سے حیوان تک سبھی کانپ رہے تھے۔ قیوم ماتھے پر پٹی باندھے اپنی ماں کے ساتھ بستر میں دبکا ہوا تھا۔ اس نے کئی خواب دیکھے۔ جلد ساز کٹائی کی مشین کے نیچے کترنوں میں سے گاتو نکال کر ان کے یہاں دینے آیا تھا۔ گاتو کے گلے میں ہلکی نیلی اور ملگجے رنگ کی کترنیں الجھی ہوئی تھیں۔ شربت والے نے گاتو گود میں اٹھا رکھی تھی اور اس کی پوستین کے بال صندل اور بزوری سے چپکے ہوئے تھے۔ پنساری کا لڑکا اوپر چوبارے میں بلی لایا تھا اور وہ ساری ہلدی سے لتھڑی ہوئی تھی۔ بھنگی دروازے پر دستک دے کر کہہ رہا تھا۔ “بی بی جی۔ بلی لے لوجی۔” بھنگی کی اس دستک سے قیوم کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے اپنی ماں کا گول گول کندھا پکڑا ہوا تھا اور اس کی ماں اس کے ابّا سے کہہ رہی تھی۔ ” اس مرنے جوگی خچر کے اپنے تو اولاد نہ ہوئی۔ دوسروں کے بچوں کا نور نکال کر لے گئی۔”

                خواجہ صاحب نے کہا۔ “لعنت بھیج۔ اس کا نام ہی نہ لے۔ مجھ سے تو قیوم کے ماتھے پر زخم دیکھا نہ گیا اسی لیے نیچے اتر گیا تھا۔” مریم نے کہا۔ “اللہ کرے اسے ساری عمر بچہ نہ ہو___ سوکھی بنجر ہی مر جائے خدا کرے۔ میرے لال کو ہلکان کر دیا۔” خواجہ صاحب بولے۔ “کیا کریں پوزیشن ہی ایسی ہے صاحب تو کھڑے کھڑے نوکری سے نکال سکتے ہیں۔ اس وقت تو قیوم کی خوشی کو روتے ہیں اُس وقت اس کی جان کو رونا پڑے گا۔” “مٹی تمہارے منہ میں۔” مریم نے غصہ سے کہا۔ “نیاز صاحب کوئی ہمارے رازق ہیں۔ روٹی تو اللہ دیتا ہے۔”

                “اس نے وسیلے ہی ایسے بنائے ہیں۔” خواجہ صاحب نے اپنی بیوی کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ “اب وہ زمانہ نہیں رہا مریم۔”

                اور مریم نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا۔ “اس زمانے نے تو ہماری ہڈیاں پولی کر دی ہیں۔ اللہ کرے نہ رہے یہ زمانہ! میں تو جس دن عید کی ڈالی لے کر گئی تھی اسی دن پتہ لگ گیا تھا کہ کیسی ڈائن ہے تمہاری بیگم صاحبہ۔ سارا وقت میں تو قیومی پر پڑھ پڑھ کر دم کرتی رہی۔ حبیب پاک اس کے دیدوں سے بچائے۔ بچہ خور لگتی ہے۔ اسی لیے تو گودی نہیں بھرتی۔ اب گاتو کو لے کر دودھ پلاتی پھرے۔”

                خواجہ صاحب چپ رہے تو مریم نے پوچھا۔ “جب تم نے اسے گاتو لے جا کر دی تو بہت خوش ہوئی ہو گی۔”

                “ہوں۔” خواجہ صاحب نے لا تعلقی سے کہا۔ “کہنے لگی شکریہ، صاحب سے کوئی کام ہو تو مجھے بتانا۔” میں نے کہا “جی اچھا۔” پھر کہنے لگی “بس پر آئے ہو؟” میں نے کہا۔ “نہیں جی سائیکل پر۔” کہنے لگی “اچھا کیا یہاں تو گھنٹہ گھنٹہ بس ملتی ہی نہیں۔” پھر اس نے میری طرف یوں دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو کوئی اور کام تو نہیں؟ اور میں سلام کر کے دفتر آ گیا۔”

                “حرامزادی” مریم نے دانت پیس کر کہا اور کروٹ بدل کر قیومی کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیے۔

                گیارہ بج چکے تھے۔ دھند بالکل مٹ چکی تھی۔ دھوپ نکل آئی تھی۔ قیومی بستہ اٹھائے سڑکوں پر گھوم رہا تھا۔ اب اسے سردی نہیں لگتی تھی۔ وہ آج سکول نہیں گیا تھا۔ بس سٹاپ تلاش کر رہا تھا۔ وہی بس سٹاپ جہاں پیپل کا پیڑ تھا۔ جہاں وہ اور اس کی امی عید کے دن سوار ہوئے تھے۔ قیومی نے راہ چلتے لوگوں سے پوچھا۔ نیاز صاحب کی کوٹھی کون سی بس جاتی ہے۔ بس کنڈیکٹر سے پوچھا۔ نیاز صاحب کے بنگلے کون سی بس جاتی ہے۔ سب ہنس پڑے۔ کنڈیکٹر نے کہا آج سکول نہیں گئے نا بچُو۔ قیوم سہم کر پیچھے ہٹ گیا۔ دوسری بس کی اوٹ میں چھپ گیا۔ ایک تانگے والا آگے بڑھ کر بولا چل تجھے میں چھوڑ آؤں۔ مفتا مفت۔ قیوم نے کہا۔ نا میں نہیں جاتا۔ مجھے ابا ماریں گے۔ پھر ایک اور بس آئی۔ اس پر طوطا مارکہ گرم مصالحہ لکھا تھا۔ عید کے دن وہ اس بس میں سوار ہوئے تھے۔ قیوم جلدی سے آگے بڑھا۔ لپک کر بس پر چڑھ گیا۔ کتنی دیر بعد کنڈیکٹر قیوم تک پہنچا۔ ٹکٹ کا پوچھا قیوم چپ رہا۔ اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔ ڈرنے لگا کہیں کنڈیکٹر مارے نہ۔ پر کنڈیکٹر نے اپنے پنچ سے بس کی پائپ بجائی۔ بس رک گئی۔ اس نے قیوم کو اتار دیا۔ دھوئیں کا بادل اٹھا۔ پھر بس اس میں چھپ گئی۔ قیوم نے کہا جدھر جدھر بس جاتی ہے میں ادھر ادھر مڑتا جاؤں گا۔ جب پٹرول پمپ آئے گا بنگلہ خود بخود نظر آ جائے گا۔ وہ چلتا رہا۔ ٹکٹکی باندھ کر بس کو دیکھتا رہا۔ بس غائب ہو گئی۔ قیوم کی رفتار سست پڑ گئی۔ لیکن وہ بستہ جھلاتا برابر چلتا رہا۔

                اتنے میں ایک اور بس آئی۔ بڑ والے چوک سے دائیں کو مڑی۔ قیوم بھاگا۔ چوک پر جا کھڑا ہوا۔ بس غاں غاں کرتی سیدھی جا رہی تھی۔ جہاں تک نظر جاتی تھی۔ بس ناک کی سیدھ ادھر ہی جا رہی تھی۔ جب بہت دور بڑی ساری بس کا ایک دھبہ سا رہ گیا تو قیوم نے پھر چلنا شروع کر دیا۔ وہ چلتا رہا۔ چلتا رہا۔ دیر تک چلتا رہا۔ دوپہر گزر گئی۔ سورج کی روشنی پیلی پیلی ہونے لگی۔ ایک دفعہ اس نے نلکے سے چلو بھر پانی پیا۔ تھیلا کھول کر کتابیں نکالیں۔ جھاڑیں اور پھر تھیلے میں ڈال لیں۔ پیلے سورج کے سامنے، سیاہ بادلوں کے ٹکڑے گزرے ٹھنڈی ہوا چلی اور قیوم نے اپنا بایاں ہاتھ نیکر کی جیب میں ڈال لیا۔ سڑک اتنی لمبی تھی کہ ختم ہونے میں نہ آتی تھی پھر بھی وہ چلتا رہا۔ تھک کر رک جاتا تو سردی لگتی چلتا تو گرم رہتا۔ اسی طرح چلتے چلتے جب وہ ٹوٹے پل پر سے گزرا تو سامنے اسے پٹرول پمپ دکھائی دیا۔ قیوم بہت خوش ہوا۔ پہلے اس کے تیز تیز قدم اٹھے۔ پھر وہ بے سوچے بھاگنے لگا۔ سامنے درخت تھے ان کے پیچھے کچھ کوٹھیاں بن رہی تھیں۔ بڑے فوارے کے پاس قیوم کو سگریٹ والے کی دوکان نظر آئی۔ اسی کے ساتھ رستہ جاتا تھا۔ ادھر ہی صاحب کی کوٹھی تھی۔

                قیوم ڈرتے ڈرتے پھاٹک میں داخل ہوا۔ سُرخ سُرخ بجری بچھی تھی۔ برآمدے میں پھولوں کے گملے تھے۔ کسی میں موتیا، کسی میں بیلا، کسی میں گلاب، کسی میں گیندا۔ برآمدے کی سیڑھیوں پر قیوم نے بستہ رکھ دیا۔ ہولے ہولے قدم اٹھاتا دروازے تک آیا۔ شیشوں میں سے دیکھا۔ سنگار میز کے پاس ریشمی بستر پر گاتو بیٹھی پنجہ چاٹ رہی تھی۔ قیوم گولے کی طرح دروازے میں لگا۔ دروازہ کھٹاک سے کھل گیا۔ قیومی نے بجلی کی طرح ٹوٹ کر گاتو کو گود میں اٹھا لیا۔ منہ چوما۔ گلے سے لگایا۔ گاتو خٹر خٹر کرنے لگی۔ دروازہ کھلنے کی آواز سن کر بیگم صاحبہ اپنا تانپورہ چھوڑ ادھر بھاگیں۔ قیومی دروازے سے نکلنے ہی لگا تھا کہ انہوں نے اسے بالوں سے پکڑ لیا اور گرج کر کہا “حرامزادے، کمینے۔”

                قیوم نے پورے زور سے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ بال زور سے کھینچے اور اس کی آنکھوں میں پانی بھر گیا۔ بیگم صاحبہ نے دوسرا ہاتھ قیومی کی چھاتی سے بھنچی ہوئی گاتو پر ڈالا اور قیوم زور زور سے رونے لگا۔ بیگم نے بال چھوڑ کر سر پر زور کا دھپا مارا لیکن قیوم گرا نہیں۔ بیگم زور سے چلائیں۔ “کمینے، رذیل، حرامزادے، چھوڑ ہماری بلی۔” قیوم نے اونچے اونچے روتے ہوئے کہا۔ “یہ آپ کی بلی تو نہیں۔ یہ تو میری گاتو ہے۔ میرے ماموں ولایت سے لائے تھے میرے لیے لائے تھے۔”

                “ماموں! ولایت!” بیگم نے دانت پیس کر بڑے بڑے دو دھموکے اس کی کمر میں دیے اور بلی کو اپنے چنگل میں جکڑنے کے لیے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا کر زور لگایا۔ قیوم نے اپنی ٹھوڑی چھاتی سے ملا لی۔ بلی کو اور زور سے بھینچ لیا۔ گاتو بلبلائی۔ بیگم صاحبہ نے مارنا کوٹنا چھوڑ کر ایک ہاتھ سے قیومی کی انگلیاں مروڑیں اور دوسرے ہاتھ سے بلی چھڑانے کی کوشش کی۔ قیومی نے ان کی کلائی میں کاٹ کھایا۔ انہوں نے جلدی سے ہاتھ جو چھڑایا تو سونے کا کنگن قیوم کے ماتھے میں لگا۔ خون کا فوارہ بہہ نکلا۔ بیگم صاحبہ نے جلدی جلدی دو تین مکّے، تین چار تھپڑ، ایک دو لاتیں رسید کیں۔ قیوم گھٹنوں کے بل گرا۔ بیگم صاحبہ نے پاؤں کمر پر رکھ کر ٹھوڑی تلے سے گاتو نکال لی اور اپنے سینے سے لگا کر کھڑی ہوگئیں۔

                قیوم سپرنگ کی طرح اچھلا اور زور زور سے رو کر کہنے لگا۔ “میری گاتو دے دو۔ میری بلی دے دو۔ میرے ماموں میرے لیے لائے تھے۔” بیگم نے آواز دی۔ “کریم۔ کریم” اور قیوم بلبلانے لگا “اللہ میاں آپ کو ثواب دے گا۔ میری بلی دے دو۔ میری بلی دے دو۔”

                بیگم خون آلود نظروں سے قیومی کو گھورتی رہیں۔ قیومی پھر گھٹنوں کے بل گر گیا اور بیگم کا دامن چوم چوم کر اور ہاتھ باندھ باندھ کر کہنے لگا۔ “میری بلی دے دو جی__ یہ میری گاتو ہے۔ مجھے مار لو جی۔ چاہے جتنا مرضی مار لو پر میری بلی دے دو۔” بیگم ویسے ہی کھڑی رہیں۔ قیوم ان کے پاؤں پر ہاتھ رکھ کر جلدی جلدی سجدے کرنے لگا۔ “اللہ کے واسطے میری گاتو دے دو۔ میری بلی دے دو۔ مجھے روز مار لیا کرو جی۔ میں آپ آ جایا کروں گا جی۔ میری گاتو دے دو۔ ابا جی سے پوچھ لو۔ یہ میری بلی ہے۔ انہوں نے ہی آپ کو دی ہے۔ چاہے مجھ سے سارے کام کروا لیں۔ مجھ کو نوکر رکھ لیں۔ مجھے سوٹی سے مار لیں جی۔ میں کچھ نہیں کہوں گا۔ میری گاتو__ میری گاتو__ مجھ کو دے دیں۔” قیومی پھر سجدے کرنے لگ گیا۔ سارا کمرہ اس کے ڈوبتے ابھرتے نالوں سے بھر گیا۔ بیگم آنکھیں سرخ کیے کھڑی تھیں۔ گاتو ان کے سینہ سے لگی اپنا پنجہ چاٹ رہی تھی۔

                کریم نے اندر آ کر پوچھا۔ “آپ نے مجھے بلایا تھا بیگم صاحبہ۔”

                بیگم نے چلّا کر کہا۔ “کہاں مر گیا تھا؟ اس حرامزادے نے کیسا تنگ کیا ہے اٹھا کر کوٹھی سے باہر نکال دے۔”

                قیوم نے ذبح ہونے والے لیلے کی طرح پتلیاں گھما کر کریم کو دیکھا اور چیخ مار کر کہا۔ “مجھے باہر نہ نکالو جی۔ میں توبہ کرتا ہوں۔ اللہ کے واسطے۔ توبہ کرتا ہوں جی۔ میری گاتو دے دو۔”

                کریم نے اسے گردن سے پکڑا اور باہر دھکیلنے لگا۔ قیوم نے ٹانگیں اکڑا لیں۔ قالین کے نیچے دری میں موٹے موتے سلوٹ پڑ گئے۔ بیگم نے کڑک کر کہا۔ “باہر لے جا حرامزادے، کتے کو۔”

                کریم نے قیومی کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا تو اس نے ہاتھ باندھ کر کریم سے کہا۔ “اللہ کے واسطے مجھے گاتو کو ہاتھ لگا لینے دو۔ اپنی بلی کو پیار کر لینے دو۔ بس ایک بار ہاتھ لگا لینے دو۔ اللہ کے واسطے۔ حضرت حضور صاحب کے واسطے۔ اللہ کے۔” لیکن کریم اسے گھسیٹتا ہی گیا۔ بجری پر اس کی نیکر سرخ اور ٹانگیں قرمزی ہو گئیں اور بوٹوں اور جرابوں میں کنکریاں اتر گئیں، گھٹنوں اور پنڈلیوں پر گہری خراشیں پیدا ہو گئیں۔ قیوم اونچے اونچے رو رہا تھا اور کریم اسے گھسیٹے لیے جا رہا تھا۔ سڑک سے پرے، سفید زمین برائے تعمیر کی سوکھی ٹوٹی جھاڑیوں پر دھکا دے کر کریم واپس لوٹ آیا اور آ کر کوٹھی کا پھاٹک بند کر دیا۔ قیوم بڑی دیر تک ریتلی مٹی پر لیٹا سسکیاں بھرتا رہا۔

                جب اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو رات چھا چکی تھی سارے بنگلوں کی بتیاں جل چکی تھیں اور ٹھنڈی ہوا سیٹیاں بجانے لگی تھی۔ بادل کے اکا دکا ٹکڑے دبیز ہو کر سارے آسمان پر گھور اندھیرا بن کر چھا گئے تھے۔

                قیوم زیر تعمیر بنگلے کی ان ٹوٹی پھوٹی اینٹوں کے ڈھیر پر جا بیٹھا جنہیں لمبی دستیوں والی چھوٹی چھوٹی ہتھوڑیوں سے توڑا جاتا ہے۔ اس نے سوچا ۔ اچھے بچے جب بہت اچھے ہو جاتے ہیں تو پریاں آتی ہیں۔ انہیں مٹھائی دیتی ہیں۔ ان کے لیے پھول لاتی ہیں۔ ان کا ہر کام کر دیتی ہیں۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھ کر اور بھی اچھا ہو گیا۔ ابھی نیلی پری آئے گی۔ مٹھائی لائے گی۔ مجھے پیار کرے گی۔ پھر کوٹھی میں جا کر گاتو لے آئے گی۔ میں سلام کروں گا۔ خوش ہو کر دعا دے گی۔ میں گاتو لے کر گھر چلا جاؤں گا۔

                سرد ہوا کے ایک تیزجھونکے سے قیوم کا چہرہ سن ہو گیا۔ اس نے سر گھٹنوں میں دبا لیا اور کہا “اللہ میاں جی میری گاتو لے دو۔ پھر میں کبھی برا نہیں بنوں گا۔ سب مجھ کو اچھا کہیں گے۔ پیار کریں گے۔ میری گاتو لے دو اللہ میاں جی میری گاتو۔۔۔۔۔۔”

                وہ پھر سسکیاں بھرنے لگا اور گرم گرم آنسو اس کی لرزتی ہوئی یخ ٹھنڈی ٹانگوں پر پھسلنے لگے۔ قیوم نے ذرا سی اونچی آواز میں اللہ میاں کو بلایا سر گھٹنوں میں اور گھسیڑا تو ماتھے کے زخم میں زور کا درد اٹھا۔ درد اور کرب کی شدت سے قیوم بلبلا اٹھا اور روتے روتے اس کی گھگی بندھ گئی۔

                اللہ میاں جی چاہے میں مر جاؤں۔ چاہے مجھے مار دو پر میری گاتو مجھے دے دو۔ میں گاتو لے کر جاؤں گا۔ چاہے مجھے چڑیلیں کھا جائیں۔ بھوت کھا جائیں۔ اللہ میاں جی میری بلی لے دو۔

                بادل زور کا گرجا۔ ہواؤں نے بھدی بھدی سیٹیاں بجائیں اور قیوم ڈر اور سردی کی شدت سے کانپنے لگا۔ پھر ایک دم جیسے آسمان میں دراڑیں پڑ گئیں۔ منوں پانی ندی نالے بن کر ایک دم اترا اور قیوم گھٹنوں میں سر دباتا گیا۔ ارد گرد کی ساری بتیاں بجھ گئیں اور آسمان کے کناروں پر بجلی چمکنے لگی۔

                سورج نکلنے سے کوئی گھنٹہ بھر بیشتر ایک بھیگا ہوا لنگڑا کتا ادھر سے گزرا تو قیوم کو یوں بیٹھے دیکھ کر رکا۔ اینٹوں پر پھدکتا اس کے پاس پہنچا۔ تھوتھنی اس کے قریب کی۔ سونگھا۔ ذرا سا جھکا اور منہ اوپر اٹھا کر رونے لگا۔ بارش سے بوجھل قیوم کے کپڑے اس کے ٹھنڈے یخ جسم سے چمٹے رہے اور لنگڑا کتا اس کے سرہانے کھڑا بین کرتا رہا۔

                بیگم نیاز نے سفید ڈوری کے سرے پر لگی ہوئی پنگ پانگ کی گیند کھینچی اور لوہے کے فریم میں جڑے ہوئے اڑتالیس شیشوں والے دریچے سے ویل وٹ کے پردے ادھر ادھر ہٹ گئے۔ دریچے کے عین سامنے زیر تعمیر بنگلے کی ٹوٹی پھوٹی اینٹوں کے ڈھیر پر قیومی بیٹھا تھا۔۔۔۔۔ غصہ سے دانت پیس کر وہ سنگار میز کے سٹول پر بیٹھ گئیں اور رونکھی ہو کر بولیں۔ “توبہ، رذیلوں کی اولاد کس قدر ضدی اور اڑیل ہوتی ہے جو کچھ ماں باپ سکھا دیں کیا مجال جو رتی بھر بھی ادھر سے ادھر سرک جائیں۔ دیکھو صبح صبح پھر آ کے بیٹھ گیا حرامزادہ۔”

An Excerpt from Mustansar Hussain Tarar’s latest book – Mantiqul Tair Jadeed

Mantiq ul Tair Jadeed

Oh Attaar, How will you die?

Mantiqul Tair Jadeed
An excerpt from Mustansar Hussain Tarar’s “Mantiqul Tair, Jadeed”

Translation

An arrogant perfume seller called Fariduddin, who was also known as Attaar, used to run a business in Neshapur. You could think of it as a boutique perfumery in modern terms.

One day he scoffs at a fakir, who is begging for alms, and tells him to go away. The fakir asks, “O Attaar, such arrogance. Do you know how you will die?” Fariduddin laughs and says, “Exactly the way you will die”. The fakir says, “Like this”. The fakir lies down, covers himself with a ragged cloth and dies at that very moment.

It was at this moment, that the birds that travelled to the mountain of Qaaf in search of truth were born from Attaar’s being. After this incident, Fariduddin was a completely changed man. He shut down his business and began his journey.

Transliteration

Aik itr farosh, matmool aur mutakabir Fariduddin naam ka shakhs jo Attaar kehlata tha, Neshapur mein kaarobaar kerta tha. Aaj ke zamanon ka fashion house, aik perfumery chalata tha. Aik fakir jo dast-e-sawaal daraaz kerta tha usay baar baar dhatkarta hai toh wo fakir kehta hai keh “Ai Attaar itna takabbur… Tu maray ga kaisay?” Fariduddin uska tamaskhur uraatay hue kehta hai, “Jaisay tu maray ga”. Fakir kehta hai, “Aisay”. Wo zameen per lait ker apna kharqa orhta hai aur mar jaata hai. Us lamhay Fairduddin ke badan mein se un parindon ne janam liya jo sach ki talaash mein sargardaan Qaaf ke pahaar tak safar kerte hain, Fariduddin ki haiyat bhi sarasar badal gayi. Us ne kaarobaar tamaam kiya aur qadam qadam per junoon ikhtiyaar kiya

Thoughts

Every now and then, you come across a paragraph or a sentence that leaves you shocked. I just finished reading Mantiqultair, Jadeed by Mustansar Hussain Tarar. It is brilliantly written but that’s not what I am here to talk about. It is this phrase that hasn’t left me ever since I read it, “itna takabbur, tu maray ga kaisa?” – “such arrogance. do you know how you will die?”

Often we are arrogant and egotistical about things that are perhaps of no consequence in the grand scheme of things. To be grateful for something, to even be proud of it in a positive healthy manner is different. But arrogance is a virus that hollows you out, destroys you from within. And one of the side effects of arrogance is this illusion of immortality that we create for ourselves whether that’s through hoarding wealth, fame, land, or by working on one’s “legacy” in the hope to be remembered forever.

Perhaps I am missing the point of this incident. However, that phrase simply isn’t leaving me. If one were to become aware of how one will die, would that change us? If we were to know how and when we will die, what would we do differently? What would we stop and what new journey would we begin?

Read more from Mantiq ul Tair, Jadeed below

Mantiqul Tair Jadeed by Mustansar Hussain Tarar

The Raindrop

بارش کا ایک قطرہ بادل سے ٹپکا۔جب اس نے دریا کی وسعت دیکھی تو وہ شرمندہ ہو گیا، کہ جہاں دریا ہے وہاں میری ہستی کیاہے (میری کیا اہمیت ہے)۔ اگر دریا ہے تو بخدا میں نہیں ہوں یعنی میرا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔جب اس قطرے نے خود کو حقارت سے دیکھا تو سیپ نے اسے اپنی جان سے پالا پوسا (بارش کا جو قطرہ سیپی کے منہ میں پڑ جائےوہ موتی بن جاتا ہے)۔ آسمان نے اُسکا کام یا مرتبہ اس حد تک پہنچا دیاکہ وہ بادشاہ کے لائق ایک قیمتی موتی بن گیا۔ گویا اس نے عظمت و بلندی اس بنا پر حاصل کی کہ خود کو اس نے پست سمجھا۔ اس نے نیستی کا دروازہ کھٹکھٹایاتو وہ “ہست” ہو گیا۔یعنی عاجزی و انکسار کے باعث اسے مذکورہ مرتبہ ملا۔

بوستانِ سعدیؒ

شیخ سعدیؒ

 

Translation

A raindrop fell from a spring cloud, and, seeing the wide expanse of the sea, was shamed.

“Where the sea is,” it reflected, “what is my existence?

Compared with that, forsooth, I am nothing.”

While thus regarding itself with an eye of contempt, an oyster took it to its bosom, and Fate so shaped its course that eventually the raindrop became a famous royal pearl.

It was exalted, for it was humble. Knocking at the door of extinction, it became existent.

[Photo by Wynand van Poortvliet on Unsplash]

 

To be a King

Translation

Darius, king of Persia, became separated from his retinue while hunting. A herdsman came running towards him, and the king assuming the man to be an enemy, adjusted his bow. Thereupon the herdsman cried, “I am no enemy. Seek not to kill me. I am he who tends the king’s horses, and in this meadow am thus engaged.” Becoming again composed, the king smiled and said, “Heaven has befriended thee, otherwise would I have drawn the bowstring to my ear.” “It showeth neither wise administration nor good judgment,” replied the herdsman, “when the king knows not an enemy from a friend. Those who are greatest should know those who are least. Many times hast thou seen me in thy presence, and asked of me concerning the horses and the grazing fields. Now that I come again before thee thou takest me for an enemy. More skilled am I, O king, for I can distinguish one horse out of a hundred thousand. Tend thou thy people as I, with sense and judgment tend my horses.” Ruin brings sorrow to that kingdom where the wisdom of the shepherd exceeds that of the king.

 

(Translation taken from “The Orchard of Sa’di” by Sa’di of Shiraz)

(Photo by Michał Parzuchowski on Unsplash)

Jibreel o Iblees

Sad was the day when Islam was hijacked from the hearts of a common man and became the property of mullahs preaching, decimating its true spirit. When people were bullied into thinking that they needed a mediator to find God rather than seeking Him in their hearts, in their souls; when piety became the definition of one man’s understanding of it rather than each man’s relationship with the Almighty, that was the day we limited the benevolence of the Omnipotent and committed the ancient sin of arrogance. Allama Iqbal’s interpretation and reproduction of Islamic literature is fascinating in its ability to challenge the stereotype and give new dimensions to religious philosophy. Following is an example of his remarkable ability to create dialogue between good and evil representing Gabriel’s devotion and Satan’s arrogance respectively.

 

Translation:

Gabriel:       “Old Friend, how is the world of senses (color and smell)”

Satan:         “Burning and suffering, pain and scars, seeking and longing”

Gabriel:      “You are talked about all the time in the celestial spheres

Is it not possible that your ripped garment be mended somehow”

Satan:          ”Alas O Gabriel! You are unaware of this enigma

The breaking of my carafe has intoxicated me

It is not possible, not possible for me to live here anymore

How silent is this world of no houses and no streets

Whose hopelessness warms the heart of the Universe

Is hope better for him or despair”

Gabriel:       “Your refusal cost you your exalted position

What honor was left of angels in the eyes of God?”

Satan:           “My boldness makes this handful of dust rise up

My mischief weaves the garment of reason

You watch from ashore the clash of good and evil

Who endures the buffets of the storm – me or you?

Khizer is also helpless, Ilyaas is also helpless

My storms rage in streams in rivers in oceans

If ever you find yourself alone with God, ask Him

Whose blood colored the saga of Man

I rankle in God’s heart like a thorn

All you say is “He is God, He is God, He is God”

 

(Post by Mariam Habib)

(Photo by Alexander S. Kunz on Unsplash)

Noise

There’s too much noise nowadays. Everywhere you look, there’s something happening that will make you wonder what everything has come to. I am not trying to say that everything is in a terrible state of affairs, but the balance of good and bad things happening around us is way off. In such circumstances, often it becomes the easiest thing to just tune everything out, to bury the remains of your hearing.

I, however, sincerely hope that it has not come to that. And that we still have it in us to not only hear the noise, but actually do something about it.

 

Transliteration

Firing

Yeh maana

Keh tum ne goli ki awaz sun ker kaha tha

Keh goli chali hai

Magar mein

Chatakhti hui haddiyon

Aur ubaltay hue khoon keh shor mein

Goli chalne ki awaz sunnay se pehlay hi

Apni samaaut ki mayyat ko dafnaa chuka tha

April 1977

 

 

Translation

I agree

That you heard the shot and said

A bullet has been fired

But I,

In the noise of crackling bones

And boiling blood,

Before I could even hear the bullet being fired,

Had already buried the remains of my hearing

 

Humsafar

Leaving those, who were with us through the dark times, behind might be the easiest thing to do. Yet why be so heartless and forget that the bonds these moments create must not be forsaken when the light finally shines?

 

Transliteration

Chaand ki simt jab urta hun

Toh hur baar ajab haadsa ho jaata hai

Woh jo mitti ka diya jalta hai meray ghar mein

Apni lau sir pe rakhay, aata hai

Aur kehta hai:

Teray saath chaloon ga keh safar duur ka hai

Aur tu raah se bhatka

Toh mein bay-aasra reh jaaoon ga!

 

Translation

Humsafar (Companion)

When I fly towards the moon

A bewildering accident happens each time

The clay lamp that lights my house

Comes to me, still burning

And says:

I shall accompany you, for the journey is long

And if you lose the way

I’ll be left without refuge

                                                                January, 1976

×