بارش کا ایک قطرہ بادل سے ٹپکا۔جب اس نے دریا کی وسعت دیکھی تو وہ شرمندہ ہو گیا، کہ جہاں دریا ہے وہاں میری ہستی کیاہے (میری کیا اہمیت ہے)۔ اگر دریا ہے تو بخدا میں نہیں ہوں یعنی میرا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔جب اس قطرے نے خود کو حقارت سے دیکھا تو سیپ نے اسے اپنی جان سے پالا پوسا (بارش کا جو قطرہ سیپی کے منہ میں پڑ جائےوہ موتی بن جاتا ہے)۔ آسمان نے اُسکا کام یا مرتبہ اس حد تک پہنچا دیاکہ وہ بادشاہ کے لائق ایک قیمتی موتی بن گیا۔ گویا اس نے عظمت و بلندی اس بنا پر حاصل کی کہ خود کو اس نے پست سمجھا۔ اس نے نیستی کا دروازہ کھٹکھٹایاتو وہ “ہست” ہو گیا۔یعنی عاجزی و انکسار کے باعث اسے مذکورہ مرتبہ ملا۔

بوستانِ سعدیؒ

شیخ سعدیؒ

 

Translation

A raindrop fell from a spring cloud, and, seeing the wide expanse of the sea, was shamed.

“Where the sea is,” it reflected, “what is my existence?

Compared with that, forsooth, I am nothing.”

While thus regarding itself with an eye of contempt, an oyster took it to its bosom, and Fate so shaped its course that eventually the raindrop became a famous royal pearl.

It was exalted, for it was humble. Knocking at the door of extinction, it became existent.

[Photo by Wynand van Poortvliet on Unsplash]